Karachi Nazim, Mustafa Kamal placed among top-three world mayors

by pakalert | November 9, 2008 at 07:54 am
5491 views | 2 Recommendations | 69 comments

KARACHI: Reputed journal, Foreign Policy in its report has declared Karachi Nazim, Syed Mustafa Kamal the second best mayor of the year 2008 world.

Foreign Policy report titled ‘The Mayor of the moment’ said that Germany’s Berlin City Mayor, Klaus Wowereit, 55 topped the list among the best mayors of the world for the current year and Karachi Nazim, Syed Mustafa Kamal, 36 placed second on the basis of his last three years’ performance.

Global Cities Index named this survey has assessed the performance of the mayors of world’s major cities giving special importance to creating better opportunity for investment in the city and city planning.

The journal eulogizing Karachi Nazim for his hard work declared him the symbol of making a difference in the city and innovation in city planning. Karachi Nazim is playing a key-role in strengthening the international ties, promoting foreign investment and tourism, said the report. It further said that Nazim Mustafa Kamal has changed the outlook of the city in a short time and his slogan that Karachi is going to emerge as another Dubai in the region declared most admired.

recommend This comment thread is now closed
0
Geoff Crowther

Foreign policy shows him at #57 not 2nd.

http://www.foreignpolicy.com/story/cms.php?story_id=4509&page=3


I work for a German Multinational and the hurdles that some of the MQM people (leaders) put for us are unspeakable. Shame on them for marketing themselves as saviors and acting like Nazis underneath.

0
Khajista

In my opinion Syed Mustafa Kmal has really done kamal by changning the map of the city positively. It was not easy to do so in a short period but hat off to him that he has developed Karachi in very short duration.

People who are taking exception to him really have negative thinking and can't be happy in any way.

0
BABAR JAMAL

11 june 1978 say altaf hussain sahab nay jo tehrik apmso banai thi os kay baad jab on ko jamian karachi say bahar nikal dia gaya tha phir onho nay 18.march.1984 ko mqm bnai or muhajir qumi movment ny  buhat kamyabian hasil ki jis wajha say jagerdar wadeeron chodrion nay ALTAF HUSSAIN BHAI say nafrat kay tor in kay khilaf sazishain ki or 19.june.1992 ko MQM kay khilaf ARMY OPERATION shoro hogya jis main ALTAF HUSSAIN BHAI kay bhai NASIR HUSSAIN OR BHATIJAY ARIF HUSSAIN  15000 karkunan ko shahid kar dia gaya

babar clifton karachi

0
naveed naushad

i m with u my nazim

v  all love u alot

u r the most nice persnality among us

v proud of u

n

 our leader

   ALTAF HUSSAIN BHAI

0
Syed Muhammad Mairaj ali

Dear Mustafa Kamal Bhai.

Aap  nay ju kaam kya hai us ki jitni tarif ki jai wu kaam hai aap nay wu ker dekha hai woh koi bhi nahe ker sakta aur aap main saab say achi baat yeah hai k aap state forward baat kertay hu aur aap main ju baat hai woh kisi main bhi nahe hai.

                        " Jiye Muthida  .

                                                   Jiya Altaf Bhai."  

0
Ajaz Ahmed

He did alot of work for karachi, and hope that the other Nazims of pakistan will follow him and will work for ther betterment of our country.
we done kamal, carry on,
with regards,

Ajaz Ahmed,
chitral

0
Muhammad Wasif

Assalam Walaikum to all readers,

Just to bring into your knowledge the fact, any overseas pakistani goes back and see karachi now it seems to be a miracle which was not possible to be done in last 50 years of independence. And i must say we should salute Mustafa Kamal for his hardwaork and determination for changing karachi into a new city in the worst stituations of pakistan. Moreover as a mayour i would definetly rank him 1st in the world the reason are:

  1. Pakistan political situation
  2. Without having resources as other mayours would be having to do their work.
  3. Milawat (Construction company's)
  4. Peoples negative thinking for any position holder
  5. Atmospheric conditions of karachi.
  6. Political pressures
  7. And even lot more

After having so many hurdles i think one would either do the same what other mayours would be doing  or else quite the job but MUSTAFA KAMAL has overcome all of this situations . I would say he is pakistani rather then any political person so he has love for country his city rather then his seat.

I hope you guys definetly would accept my words

PAKISTAN ZINDABAD

 

 

 

0
mohsinali

اسلام و علیکم

جناب مصطفی کمال صاحب آپ نے جس طرح ہمارے شہر کراچی کو ترقی کے اس حد تک پہنچایا ہے جس کا کوءی جواب نہیں ہے کراچی روشنیوں کے شہر کی رونق دوبارہ آپ نے بہال کرکے دکھاءی جس کا ثبوت کراچی کا بچہ بچہ دے سکتا ہے روڈ کشادہ سے کشادہ تر ہوگءے، انڈر پاس ہوگءےجس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام بہت بہتر ہوگیا اوراس کے علاوہ پارک وغیرہ تو لاجواب ہیں جس کی وجہ سے شہر کراچی کی شان میں بہت اضافہ ہوگیا ہے اللہ تعالی آپ کو اس کا اجر عظیم عطا کرے کہ آپ ہم غریبوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں ورنہ کءی حکومتیں آءیں اور چلیں گءیں لیکن ایسا کام دیکھنے کو نہیں ملا جس طرح آپ نے کر کے دکھایا ہے میری اس پاک پروردگار سے دعا ہے کہ وہ آپ کو اسی طرح محنت کرنے اور لوگوں کی بھلاءی کرنےکی ہمت عطا کرے اور اس کا اجر ہم جیسے غریبوں کی دعاءیں قبول کرنے کی صورت میں دے۔ 

جناب مصطفی کمال صاحب میری آپ سے ایک گزارش ہے وہ یہ کہ آپ نے کراچی میں اتنا کچھ کیا بہت اچھا کیالیکن ایک چیز کی کمی ابھی بھی موجود ہے وہ یہ کہ ہمارے ملک میں بے روزگاری بہت ہے پڑھے لکھے افراد بہت ہیں لیکن نوکریاں نہیں ہیں ڈگریاں لءے ہاتھ میں گھوم رہے ہیں لیکن روزگار کے مواقع ملتے نہیں ہیں آپ نے شہر کراچی کو اتنا اچھا کیا اتنا خوبصورت کیا سب ہمارے لءے کیا لیکن بے روزگاری بھی تو ختم کرنی چاہیے ہر چگہ لوگ بڑے بڑے اپارٹمنٹ بنا رہے ہیں بڑی بڑی بلڈنگ بنا رہے ہیں لیکن اس چیز کا کیا فاءدہ کیا لوگوں کے لءے صرف رہنا ضروری ہے صرف انہیں رہنے کے لءے چھت چاءیے نہیں جناب انہیں چھت سے پہلے زندہ رہنے کے لءے کھانے کو چاہیے اس کے لءے آپ نے کیا کیا ہم جیسے لڑکےکبھی ترقی نہیں کرسکتے ہیں وہ اس لءے کہ والدین ہم کو بڑی مشکل سے میٹرک کی تعلیم دیتے ہیں اس میں کتابوں کا خرچہ فیس اور اگر کوءی پراءیویٹ امتحان دینا چاہے تو کم سے کم جو میٹرکے کی داخلہ فیس کا خرچہ ہے وہ کم سے کم 1000کے قریب آجاتا ہے اس کے بعد ایڈمٹ کارڈ کے چکر ،بورڈ آفس کے چکر لگا لگا کر وہ تنگ آجاتا ہے بتاءیں ہم کس طرح اس کو مینچ کریں اگر کسی کی آمدنی 5000ہزار روپے ماہانہ ہے اور کمانے والا بھی ایک ہے وہ کس طرح آج کے دور میں 1000 آفورڈ کرسکتاہے آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں کوءی بھی حکومت آتی ہے وہ سب سے پہلے روڈ بناتی ہے، بلڈنگ کھڑی کرتی ہے لیکن اس مسءلے کی طرف نہیں جاتی جس کی ہم سب کو ضرورت ہے کیا ہم لوگ اسی طرح دھکے کھاتے رہیں گے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے پڑاءی سے دور ہوجاءیں گے اورپھر وہ ہی مزدوری بزرگ کہتے تھے کہ دن میں کام کرو رات کو پڑھو مجھے آپ بتاءیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے میں اور میرے جیسے کتنے لڑکے ہیں جو صبح کام سے گھر سے نکلتے ہیں اور رات کو گھر جاتے ہیں جنہیں پورا گھر چلانا ہوتا ہے وہ سارا دن دھیاری پر کام کرتے ہیں اور رات کو صرف اسلءے دیر سے جاتے ہیں کہ سو سے ڈیرھ سو روپے کی دھیا ری بن جاءے اتنا کام کرنے کے باوجود وہ صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں کہ ان کا گھر چل سکے اور اتنے تھکے ہوءے ہوتے ہیں کہ بس چھوڑیں اس کو لیکن پڑھاءی کر سکتے ہیں میں مانتا ہوں اس چیز کو لیکن بغیر کسی استاد کے کیسے پڑیں جتنے بھی ٹیوشن استاد ہیں ان کی فیسِیں ہمارے مہنے بھر کے خرچے سے بھی زیادہ ہے مجھے بتاءیں کے ہم کیا کریں کیا کسی نے بغیر استاد کے بھی تعلیم حاصل کی کوءی بھی اپنی ماں کے پیٹ سے سیکھ کر کوءی چیز نہیں آتا اس کے لءے کوءی نا کوءی سکھانے والا ہوتا ہے بچہ اگر بولنا بھی سیکھتا ہے وہ بھی اسے سکھایا جاتا ہے میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ کچھ ایسے ادارے بناءیں جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ لوگوں کو روزگار بھی فراہم ہو گا اگر ہم جیسے لوگ کارخانوں میں کام کرسکتے ہیں بڑے بڑے تاجروں کا کام کرسکتے ہیں جو اس ملک میں صرف کمانے کے لءے آتے ہیں تو کیا حکومت ایسے کارخانے قاءم نہیں کرسکتی جس سے مکمل طور پر حکومت کو منافع پہنچے اورروزگار کے مواقع بھی زیادہ سے زیادہ ملیں جب لوگ اپنے روزگار سے ستفید ہوں گے گھریلو پریشانیوں سے دور ہوں گے تب ہی آپ کے بناءے ہوءے پارکوں میں جاءیں گے کچھ ایسے ادارے بناءیں جہاں لوگوں کو روزگار کی فراہمی ممکن ہوسکے اور اگر ہوسکے تو بڑے بڑے جو بزنس کرنے والے ہیں انہیں بھی کہیں کے کچھ ایسے ادارے قاءم کریں جس ہمارے لوگوں کو بھی ٹیکنالوجی فراہم ہو ہم جیسے کام کریں گے تو ان کا بھی فاءدہ ہو گا اور ہمارا بھی ۔ اگر آپ غور کریں تو یہ بہت اچھا ہے جو کام باہر سے کروانے پڑتے ہیں وہ کام اگر ہمارے ملک میں ہی شروع ہوجاءیں تو اس سے ہمارے ملک کو کافی فاءیدہ ہوگا جس طرح چاءنا ہمارے ملک میں ہر چیز تیار کرکے بھیج رہا ہے اس طرح کیا ہم لوگ نہیں کرسکتے ہیں صرف سوچ کی بات ہے ہم لوگ کیا ان کی طرح سوچ ہیں رکھ سکتے یا صرف سیاست میں لڑتے جھگھڑتے رہیں گے بتاءیں سر ایسا کب تک چلے گا کیا غربت پاکستان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی یا خدانخواستہ پاکستان ہی نہیں رہے گا یہ سچ ہے کہ ہم غریبوں کی وجہ سے پاکستان چل رہا ہے ہم لوگ محنت کرتے ہین تو پاکستان کے بڑے بڑے لوگوں کو منافع ہوتا ہے اور جب ہم جیسے غریب ہی نہیں رہے گے تو پھر کیا ہوگا کیا امیروں کے لاڈلے بچے مزدوری کریں گے مشینوں پر کام کریں گے کسی روڈ کے کسی مکینک کی دکان پر کام کریں گے کبھی نہیں کرسکیں گے اس لءے زرا سوچءے اس بارے میں روڈ بنانے سے کچھ نہیں ہوگاہمیں روڈ نہیں روزگار چاءیے جس کی وجہ سے ہم اپنا گھر چلا سکیں اور پیٹ بھر کھانا کھا سکیں۔   شکریہ

0
Ajeeb

bahout achi bahout achi


This story was created over 3 months ago, the comment thread is now closed.

What is NowPublic?

NowPublic lets people work together to cover news events around the world.

Find out more

Crowd Power

Anonymous
First Flagged at 11:37 PM, Mar 5, 2009 by Anonymous (not verified)

Most Recommended Stories in World

Recommendations (2)

Most recently recommended by:
 

closeSign in to NowPublic

is reporting from